27 مئی، 2013

جاہل اور سنکی کی ایک پوسٹ پر کمنٹ


وئیر ولف کا چاندنی راتوں میں انسان بنے رھنا مشکل ھوتا ھے۔سلائسنگ کا فن آتا ھو تو خربوزے کے ساتھ محض یاری دوستی مشکل کام
 ھے۔ اور حساس دل ھو تو جذبات سے عاری چہرہ رکھنا مشکل ھے۔

لیکن یہ کیفیت لانگ ٹرم نہیں کیونکہ نالج سیلف ڈسٹرکٹیو ھوتا ھے۔ عروج پر پہنچتے ہی زوال شروع ھو جاتا ھے ۔


19 مئی، 2013

بوسن روڈ


میٹرک کے داخلے جانے لگے تو ماسٹربشیر  صاحب نے کچھ اس ترتیب سے سب کے فارم بھیجے کہ دو ھوشیار حضرات کے درمیان ایک نالائق بندہ گھس گیا۔ بورڈ سے رول نمبر بھی اسی ترتیب سے آئے۔ ماسٹر جی نے سارے ھوشیاروں کو فرما بھی دیا کہ آپ لوگوں پر فرض  واجب ہے کہ آپ اپنا امتحان حل  کرنے کے ساتھ ساتھ یہ جو  بندہ الاٹ ھوا ہے،  اس کو بھی پاس کروائیں۔ میرے  اور عامر کے حصّے میں شاکی آیا۔

15 مئی، 2013

چند خیالات بنگالیوں کے بارے



آج ایک لوکل عرب کولیگ سے گپ شپ  ھو رہی تھی تو  کہنے لگا کہ بنگالیوں کا امیج عربوں کی نظر میں کافی خراب ھے کہ یہ پرلے درجے کے جھوٹے اور چکر باز سمجھے جاتے ھیں۔  یہ لوگ ھر وہ  کام کرنے کی حامی بھر لیتے ھیں۔ جس کاان کو دور دور تک علم نہیں ھوتا۔ 

اس سال کار کا ایکسیڈنٹ ھوا تو مجھے میرے تمام عرب کولیگز نے ایک ہی نصیحت کی کہ کسی بنگالی گیرج میں نہ گھس جانا  گاڑی کی مرمت کروانے۔ بیڑا غرق کر کے سوری سوری کرتے پھریں گے بنگالی۔

یہاں اکثر جرائم کی خبروں میں بھی بنگالیوں کا ذکر خیر لازمی موجود ھوتا ھے۔ (خاص طور پر خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے واقعات میں)۔ لیکن خیر سارے ایسے نہیں ہوتے۔

میں بعض اوقات حیرانی سے سوچتا ہوں کہ دبئی میں گزارے پچھلے چار پانچ  سال میں   مجھے ابھی تک کوئی خوشحال یا  مڈل کلاس بنگالی نظر نہیں آیا۔ جتنے بھی نظر آئے ، چھوٹی موٹے کام یا نوکری کرتے نظر آئے۔

29 اپریل، 2013

اختلاف اور برداشت


مفتی  محمد شفیع ؒ فرماتے تھے کہ
"انسانوں کی کسی مجلس میں اگر اختلاف نہ ہو تو اس کے دو ہی اسباب ہو سکتے ھیں۔ شرکاء اتنے غبی ھیں کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ھیں، یا پھر اتنے مفاد پرست ھیں کہ دانستہ اختلاف سے گریز کرتے ھیں۔"

امام شافعیؒ کا قول ہے کہ
" میں اپنی بات کو درست کہتا ہوں لیکن اس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتا ہوں۔ اسی طرح میں دوسروں کی بات کو غلط کہتا ہوں مگر اس میں صحت کا امکان تسلیم کرتا ہوں۔"


16 اپریل، 2013

زلزلہ



آج خبر  ھے کہ بہت شدید زلزلہ آیا۔ شدت 
7.9  تھی۔


میں حسن کوسکول سے  لینے کے لیے گھر کے دروازے  سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ  ایک گورے پڑوسی  کو ننگے پاؤں کاریڈور میں بھاگتے دیکھا۔ پوچھا تو کہنے لگا کہ زلزلہ آرھا ھے۔ میں نے کہا کہ بلڈنگ کی کنسٹرکشن بڑی گھٹیا ھے۔ کسی نے دو فلور نیچے اپنا دروازہ ذرا زور سے بند کر دیا ہوگا، جس کی شاک ویو  کو جناب  زلزلہ سمجھ رہے ھیں۔ لیکن گورا    اپنے زلزلے والے بیان پر اڑا رہا۔ میں نے سوچا سالا  چریا ہو گیا ھے۔ آج صبح صبح ہی شراب چڑھا لی ھوگی۔ اسی لیے اس کو ساری دنیا ڈولتی نظر آ رہی ہوگی۔


واپس آ کر ٹی وی سے پتہ لگا کہ ایران پاکستان کے بارڈر پر زلزلہ آیا تھا، جس کی شاک ویو کافی دور دور تک محسوس کی گئی۔


2005 کا زلزلہ بھی اسی شدت کا تھا۔


غالباً رمضان کے دن تھے۔ میں ننگے فرش پر سویا ہوا تھا۔ اور ایک عجیب سا خواب دیکھ رہا تھا۔


ایک  بگولا  (ٹارنیڈو) بہت ہی تیزی سے عجیب سے انداز میں  گھومتا ہوا اور گڑگڑاہٹ بھری آواز نکالتا  میری  طرف آ رھا تھا۔  یہ آواز ایسی ہی تھی جیسی مسلسل آسمانی بجلی کڑک رہی ہو۔جب اس بگولے نے مجھے اپنی لپیٹ میں لیا تو اس کی چیخ نما کڑکڑاتی آواز اتنی شدید ہو گئی کہ مجھے لگا کہ میرے کان کا پردہ پھٹ جائے گا۔   خوف اتنا شدید تھا کہ میری آنکھ فوراً کھل گئی۔ پتہ لگا کہ زمین زور زور سے ہل رہی  ھے، اور میں زمین پر کان لگائے زلزلے کی آواز سُن رہا ہوں۔


مجھے عموماً  اپنی گزری ہوئی زندگی کے وہی  واقعات یاد رہتے ھیں، جن میں کوئی چیزاتنی  اچھوتی اور مختلف ہو، جس سے ذہن کی سلیٹ پر گہرا نشان جائے۔


یہ آواز اتنی عجیب اور اتنی شدید تھی کہ میرے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوئی۔


11 اپریل، 2013

کچھ اکثریت کے حقوق کے بارے


آپ استنبول کو لے لیں۔


یہ 1453 تک عیسائیوں کا گڑھ تھا۔ لیکن 1453 میں ترکوں کے قبضے میں جانے کے بعد اس شہر کی اہمیت اور بھی دو چند ھو گئی ۔ اگلے دو سو سال عثمانی سلطنت  ایشیا اور یورپ کی سب سے مضبوط طاقت رہی، سو استنبول  پورے یورپ  و ایشیا کی سب سے بڑی تجارتی و فوجی  بندرگاہ بن گیا۔
یہ اس زمانے میں یورپ کا سب سے امیر اور گنجان آباد شہر تھا۔ یہاں کی گلیوں میں آپ بہتر مختلف زبانیں سُن سکتے تھے۔ قبطی مبلغوں سے لے کر یہودی شیشہ گر، ایرانی ریشم کے تاجروں سے  لے کر برف پر ھزاروں میل چل کر پہنچنے والے سکینڈے نیوین  کرائے کے فوجیوں تک بھانت بھانت کے لوگ ملتے تھے۔ یہاں آرامک بولنے والے شامیوں ، لاطینی بولنے والے افریقیوں ، آرمینیا غرض ھر علاقے ھر زبان  کے لوگوں کو روزگار مل جاتا تھا۔ یہ سب لوگ عثمانی سلطنت کے متاثر کن  پھیلاؤ میں کسی نہ کسی صورت حصہ دار تھے۔

10 اپریل، 2013

وزن کہانی - 1


لیں جی۔ بایاں گوڈا جواب دینے لگا ھے۔ اب وزن کم کرنا ہی پڑے گا۔
2001 سے میری اور وزن کی جنگ جاری ھے، جس میں عموماً وزن کی ہی جیت ہوئی ھے۔