میں یہاں جتنے بھی لوگوں سے ملا ہوں ، اُن میں مستقبل کے بارے بے یقینی اورعجیب سا ڈر ھے۔ اور یہ بے یقینی ایک عجیب سی چھوت کی بیماری ھے۔ آپ کے آس پاس کسی کو ھو تو فوراً آپ کو بھی لگنا شروع ھو جاتی ھے۔
شائد یہ 2009 میں پھُوٹنے والے معاشی ببل کا اثر ہے۔ اُس سے پہلے ھر سرمایہ دار اتنی تیزی سے ترقی کر رہا تھا کہ مت پوچھیں۔
سرمائے کے نام پر پتہ نہیں کیوں، ایک عجیب سی مایوسی در آنے لگتی ھے جی کے اندر۔
شائد اس لیے کہ ھم اِن سب لوگوں کے برابر نہیں آ سکیں گے کبھی۔
اچھی بات یہ ھے کہ جیسے ہی اس طرح کی مایوسانہ سوچیں آنا شروع ھوتی ھیں، فوراً اندر سے آواز آنے لگتی ھے۔