17 جنوری، 2013

سُومنات


انیس سو ستر سے لے کر نوّے کے عشرے تک وہ دور تھا کہ ہرمتوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے  ماں باپ کو اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجنینئر بنانے کا شوق ہوتا تھا۔ پیدا ھوتے ہی خواب دیکھ لیےجاتے کہ ڈاکٹری کی طرف لے جانا ھے یا انجنینئرنگ کرانی ھے۔
اس معاشرتی رویے کی کچھ خاص وجوہات تھیں۔ 
ایک تو یہ کہ  ڈاکٹروں، انجینئروں اور مقابلے کے امتحان پاس کرنے والے جیالوں کو معاشرے میں قابل تحسین نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگ ابھی ان کی عزت کرتے تھے (بلکہ نکّے ہُندیاں ہی عزّت شروع کر دیتے تھے)۔
خاندانوں کی سب سے خوبصورت لڑکیوں کے رشتے بھی یہی صاحبان گھیر کر لے جاتے تھے۔

5 جنوری، 2013

پُونڈی نامہ


سین نمبر ایک: سن دوھزار تین۔ موسٰی پاک ٹرین


شادا :  
چودھری! ٹرین آوے تو ایویں کسی بوگی میں نہیں چڑھنا۔۔۔میرے پیچھے پیچھے آتا رھیں۔ بوگی مَیں سلیکٹ کروں گا۔۔۔
آھاھاھا ، ھائے اوئے چودھری، قسمے سواد آگیا، اج تے ٹرین وچ بہت پُونڈی اے۔۔۔
کہا تھا ناکہ ایسی بوگی میں بٹھاؤں گا کہ جنت کی حوریں بھول جائے گا۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔
خبردار جوکسی خالی سیٹ پر بیٹھا۔ بوگی کے درمیان میں کھڑے ھو کر جائیں گے۔ بیٹھنے سے پُونڈی کا اینگل خراب ھوتا ھے۔ ۔۔
آھاھا ھا! چودھری۔۔! وہ سبز چادر والا پیس چیک کر ۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔
لوگ  گھور رھے ھیں تو گھورنے دے، یہ سارےخود پُونڈ ھیں، سڑنے دے ان بے غیرتوں  کو۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔
استاد! چیک کر۔ بچّی لفٹ کروا  رہی ھے۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔
اگلے سٹیشن سے اور بھی رش بڑھے گا بوگی میں۔۔۔ خیال رکھیں کہ ھم نے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔
چودھری، پینسل ھے؟ فون نمبر پکڑانا ھے۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔ ۔۔۔
یہ ان  بے غیرت لڑکوں کو اور کوئی جگہ نہیں ملی ؟ادھر ھمارے ساتھ کھڑے ھو گئے کمینے ! ۔۔۔ 
یار  کُڑی ان کی وجہ سے اب اِدھر نہیں دیکھ رھی۔۔۔کمینے لوگ۔۔۔
او بھائی جان ، ذرا ھٹ کر اُدھر کھڑے ھوں، ھماری جگہ پر مت آئیں۔۔۔
کمینے لوگ، سارا کام خراب کر رھے ھیں۔۔۔
کمینے لوگ۔۔۔
یار یہ کڑی تو اب ان کو لفٹ کروانے لگ گئی ھے۔۔۔
کمینے لوگ۔۔۔
اوبھائی صاب، صاف صاف بتا رھا ھوں، یہ شوہدی حرکتیں یہاں نہیں چلیں گی۔ ۔۔۔
بندہ بن اوئے!! ماں بہن نہیں ھے تیرے گھر ؟۔ چڑھ جاتے ھو جینزیں کَس کے ٹرینوں پر۔ چلو دفعہ ھو جاو یہاں سے، ورنہ ٹانگیں توڑ دیں گے تمہاری، لڑکیاں تاڑتے ھیں بے غیرت لوگ!!۔۔۔
بالکل چاچا جی، ایہناں کمینے لوگاں دے نال ایہو ای کرنا چاھیدا اے، بے شرم لوگ، حیا نئیں آندی ایہناں نوں۔۔۔
۔۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔۔ھائے اوئے!! 
اوکاڑے سے چڑھنے والا پیس چیک کر چودھری !!!!۔
۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔


ــــــــــــــــــــــ

سین نمبر دو: سن دو ھزار سات۔ میونسپل سٹیڈیم


شادا:
خیر مبارک ۔۔۔۔بس یار ابھی صبح آیا ھوں لاھور سسرال سے ۔۔۔۔ 
میں اور میری بیگم اکیلے ھی آئے ھیں ٹرین میں ۔۔۔۔
کیا بتاؤں ،موڈ سخت خراب ھے یار۔۔
نہیں وہ والی بات نہیں  ۔۔۔
بس چودھری کیا بتاؤں۔لوگوں میں شرم حیا نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہ گئی۔
ٹرین میں سارے بے غیرت شوہدے لوگ میری بیوی کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگ گئے۔۔۔
چودھری میرا دل کر رھا تھا کہ ان کی آنکھیں نکال دوں، بے غیرت بے شرم لوگ۔۔۔
میں نے تو بیوی کو کہ دیا ھے خبردار جو یہ فیشن ایبل بننے کی کوشش کی۔ بلکہ  آئندہ اگر منہ ڈھکے بغیر گھر سے باہر نکلی تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔۔۔


31 دسمبر، 2012

تجھے ایتھوپیا بنا ڈالوں گا

پچہلے دنوں ایک میٹنگ میں انتہائی فیشن ایبل اورتعلیم یافتہ افریقی خاتون سے ملاقات ہوئی۔  اتا پتا معلوم کیا تو  ایتھوپیا کی نکلی۔
ایتھوپیا!!
جس کا نام لے کر ملک دوسرے ملکوں کو دھمکیا ں دیتے ہیں کہ تجھے ایتھوپیا بنا ڈالوں گا۔
جہاں کے بھوکے بچوں کی تصویریں بنا  کر مغربی دنیا میں فوٹوگرافی کے ایوارڈ جیتے گئے ہیں۔
انہی فوٹوگرافروں نے دنیا بھر میں ایتھوپیا کا تصور ایک بدترین غربت کے شکار  قحط زدہ ملک  کے طور پر پھیلایا ہے۔
یہی تصور میرے ذہن میں بھی تھا۔
 اسی لیے حیرانی کے ساتھ خاتون سے سوال کیا کہ  میرے دماغ میں تو ایتھوپیا کی تصویر ہی اور ہے ۔  تیرے پاس یہ سجنے سنورنے  کے پیسے کدھر سے آئے؟
(یعنی کدھر سے چوری کیے؟۔) 
معلوم ہوا کہ خاتون کافی کی کافی بڑی ایکسپورٹر ہے۔
کہنے لگی کہ ایتھوپیا  کا ذکر ہوتے ہی بہوکے ننگوں کی جو فلم تم  لوگوں کے دماغ میں چلنے لگ جاتی ہے وہ مکمل صحیح نہیں۔پچھلے سال ایتھوپیا کی معاشی ترقی کی شرح یعنی جی ڈی پی گروتھ ساڑھے سات فیصد تھی۔
موازنے کے لیے ذرا غور کریں۔اسی سال میں  انڈیا  کی شرح ترقی 7.8%، چین 9.8%، پاکستان 2.7% تھی۔
سال 2011 میں ایتھوپیا کی معاشی ترقی کی رفتار عالمی طور پر چودہویں نمبر پر تھی۔
ایتھوپیا دنیا میں سب سے زیادہ کافی پیدااور برآمد  کرنے والا  علاقہ ہے۔ 
اسی طرح جانور، گندم اور روئی  برآمد کرنے میں اس کا کافی بڑاشئیر ہے۔ ۔
بیرونی سرمایہ کاروں نے ملک کی راہ دیکھ لی ہے۔
چینی لوگ صرف پچھلے سال میں تعمیراتی اور صنعتی شعبے میں  ایک ارب ڈالر لگا چکے ہیں (یعنی جتنے پیسے ایتھوپیا کو کافی اور دوسری اشیاء کی برآمد سے ملتے تھے، اس سے بھی دگنے)۔
جرمنوں نے 16 یونیورسٹیاں بنا کر دی ہیں۔
ملک میں دھڑادھڑ ڈیم، سڑکیں، پل اور فیکٹریاں بن رہی ہیں اور لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔
اب تو حالات یہ ہیں کہ ایتھوپیا کی فصلوں کا ریٹ  نیویارک اور لندن کی کموڈیٹی فیوچر  مارکیٹس میں طے ہوتا ہے۔
(یہ اور بات کہ اسی دن ایتھوپیا میں لاگو بھی ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اس کا توڑ کرنے کے لیے لوگ پیسے ڈالروں کی شکل میں رکھتے ہیں۔ سب سے مزیدار بات کہ کافی  جس ملک میں پیدا ہوتی ہے، اس ملک کے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔اس کے پیچھے فلسفہ یہ کہ خود پی کر کافی ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ کسی اور ملک کے نشئیوں کو بیچ کر پیسہ کمایا جائے۔)

یہ ساری بکواس سن کر دل چاہا کہ ایتھوپیا کی نیشنیلٹی اختیار کرلوں ۔ گہر آ کر کچھ تحقیق کی تو ارادہ ترک کر دیا۔

وجہ بتانے سے پہلے کچھ جی ڈی پی کے بارے میں۔
اپنے شوکت عزیز صاحب نے اپنے دور حکومت میں اور کچھ کیا یا نہیں، لیکن جی ڈی پی نام  کا لفظ ضرور ساری قوم کے دماغ میں ڈال دیا۔ جی ڈی پی کسی بھی ملک میں ہونے والی معاشی ترقی  اور عوام کی آمدن کو ناپنے کا ایک معیار ہے، اسی لیے ملکوں کی معاشی ترقی کو آپس میں موازنہ کرنے کے لیے عموماً ہم سب سے زیادہ جی ڈی پی گروتھ ریٹ کا نام سنتے ہیں۔
چونکہ بہت ساری قباحتوں اور خباثتوں کی وجہ سے عوام الناس کی آمدن کو ماپنا ذرا مشکل اور لمبا کام ہے، اس لیے عموماً  ان کے (اور ان پر کئے گئے) خرچوں کا حساب لگا کر جی ڈی پی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ 
اس کام کے لیےچار چیزوں  کا سہارا لیا جاتا ہے۔
1۔ عوام کے پرسنل اخراجات و عیاشیاں:  
ماپنے کے لیے عموماً  ان کو یہ ساری اشیاء بیچنے والوں کی  آمدن/فروخت  کا حساب لگایا جاتا ہے۔ یہ ساری معلومات تمام  کاروباری ادارے کسی نہ کسی شکل  میں حکومتی اداروں (مثلاً ٹیکس ڈیپارٹمنٹ، کاروباری رجسٹریشن آفس وغیرہ) کو سالانہ دیتے رہتے ہیں۔
2۔ عوام کی مختلف چیزوں میں سرمایہ کاری:
مثلاً مکان، پلازہ، مشینیں، اوزار، فیکٹریاں وغیرہ۔ یہ معلومات بھی عوام غیرمحسوس طریقے سے حکومتی اداروں کو دے رہے ہوتے ہیں۔
3۔ برآمدات ۔
برآمدات جتنی زیادہ ہوں گی، ملک میں ڈالر اتنےہی زیادہ پہنچیں گے۔( پٹرولیم مصنوعات، نت نئی ٹیکنالوجی اور ہرچیز جو ملک میں پیدا نہیں ہوتی یا  بنائی نہیں جاتی،  یہی ڈالر دے کر دوسرے ملکوں سے خریدی جاتی ہیں۔ تاکہ عوام کا دل لگا رہے۔ اگر ڈالر ہی نہیں ہونگے ، تو  عوام کی کمانے کی اہلیت متاثر ہوگی )
4۔ حکومتی خرچے۔
جو کہ ادھر ادھر سے پیسے پکڑ کر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی طرح عوام کا معیار زندگی، ان کی کمانے کی اہلیت  اور  حکمرانوں کی عیاشیوں کو بڑھاوا دیا جاسکے۔ یہ وہ سارے خرچے ہوتے ہیں جو حکومتی بجٹ میں پیش ہوتے ہیں۔
معاشی ترقی کی شرح یعنی جی ڈی پی گروتھ ریٹ مکمل حقائق بیان نہیں کرتی۔ یعنی ایتھوپیا کی سالانہ سات فیصد جی ڈی پی گروتھ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ثمر ساری آبادی تک پہنچ رہا  ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ ایسا ہی ہے کہ اگر محلے کے دس لوگوں میں سے ایک آدمی بہت شدید ترقی کر رہا ہے اور باقی نو کے حالات وہی ہیں  تو جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے حساب سے اوسطاً سب ہی ترقی کر رہے ہونگے ۔ظاہر ہے کہ اصل حالات مختلف ہیں جو کہ جی ڈی پی سے واضع نہیں ہوتے ۔
 کسی بھی ملک کی عوام کی ترقی کا زیادہ مناسب معیار اس ملک میں تعلیم کے معیاروشرح، صحت کی سہولتوں کے حالات، بدمعاشی/شرافت  کا رجحان  وغیرہ ہونا چاہئے کیونکہ یہی چیزیں معاشی لحاظ سے بہتر اہلیت اور مواقع فراہم کرتی ہیں اور  احساس تحفظ دلاتی ہیں۔ جیّد اکنامسٹوں کا فرمانا ہے کہ اگر مواقع اور اہلیت کے ہوتے ہوئے بھی انسان غریب ہے تویہ  اس کی پرسنل حرام زدگی اور سُستی  ہے،  ریاست/حکومت یا گہر والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ (مواقع سے مراد دوسرے کا موبائل فون اپنے زور بازو یا زور گن سے چھیننا نہیں، بلکہ اپنی تعلیم، ہنر و عقل استعمال کر کے پیسے بنانا ہے)۔
 جی ڈی پی گروتھ ریٹ کی انہی خامیوں کے باعث نوے کے عشرے میں ایک اور معاشی ترقی کا معیار ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس بنایا گیا۔ (اپنے سابق پاکستانی وزیر خزانہ محبوب الحق صاحب کے دنیا بھر کو دیئے گئے تحفوں میں سے ایک تحفہ یہ بھی ہے۔ یہ انڈیکس انہی کی زیر نگرانی بنا)۔ اس معیار میں فی کس آمدن کے علاوہ،  تعلیم اور صحت کے حالات کو بھی  شامل کیا گیا تاکہ اندازہ لگایا جائے کہ عوام کی اکثریت کن حالات میں ہے۔

سالانہ جی ڈی پی گروتھ کے حساب سے عالمی طور پر ایتھوپیا کا نمبرچودہواں ہے، لیکن اگر ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کو دیکھیں تو  شمار آخری  چودہ ملکوں میں سے ہوتا ہے۔ یعنی ابھی تعلیم و صحت/معاشرتی ترقی کے شعبے میں تقریباً کورے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ساری معاشی ترقی ابھی  چند ہاتھوں تک مرکوز ہے۔ (2011 کی آدہی جی ڈی پی  آبادی کے صرف 20 فیصد لوگوں نے کمائی)۔

پاکستانی اور فارن نیشنل پاکستانی (بمشمول افغانی)  حضرات اپنے ممالک کی سالانہ  جی ڈی پی گروتھ اور ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس دیکھ کر سوچیں کہ کتنے پانی میں ہیں۔ (یعنی پانی ہے بھی یا ڈیم بنانے تک سارے دریا سوکھ جائیں گے؟؟)۔

7 جون، 2011

جان لینن


جان لینن انگریزوں کے ایک مشہور سنگر گزرے ھیں جنہوں نے ساٹھ کی دھائی میں بیٹلز کے نام سے بینڈ بنایا تھا۔

8 جولائی، 2008

ھندوستانی ٹھگ - عقائد


ٹھگ مسلمان، ھندو یا کسی بھی مذہب سے ھو سکتے تھے، لیکن ضعیف الاعتقادی  کے سبب یہ سب بھوانی نام کی ایک دیوی کی بھی پوجا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بھوانی ٹھگوں کی پرسنل دیوی ھے جو ان کو شکار کی نشاندھی کرتی ھے اور ان کا جرم چھپانے میں مدد کرتی ھے۔

21 جون، 2008

ھندوستانی ٹھگ


انگریز ھندوستان پر قبضے کے دوران اپنی جن سماجی کامیابیوں کا تذکرہ بہت فخر سے بیان کرتے ھیں، ان میں سے ایک ٹھگوں کے منظم گروہوں  پر قابو پانا ھے، جو کہ پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تین سو سال تک ھندوستان بھرکے راستوں میں  دھڑلّے سے منڈلاتے رھے۔

6 جون، 2008

میں بلاگ کیوں لکھوں گا؟ - دوسرا حصہ


2۔ کتابیات:
میں 1986 میں سعودی عرب سے  مستقل طور پر پاکستان واپس آگیا۔ میرے بڑے بھائی کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے اوراباجی کے سعودیہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پاکستان میں کافی کتابیں اکٹھی کی ھوئی تھیں۔۔ لیکن ھر طرح کی نہیں ۔ بلکہ بہت ھی عجیب و غریب۔ (کم از کم مجھے اس عمر میں عجیب ھی لگتی تھیں )۔ مثلاً۔ عملی نفسیات۔  ابواعلیٰ مودودی۔ دست شناسی۔خلیل جبران۔دیسی جڑی بوٹیوں کے خواص۔جنرل نالج۔ یعنی کہ کسی بھی قسم کے ڈائجسٹ، افسانے ، ناول   یا اسی قسم کی پرلطف کیٹیگری کی کوئی کتاب گھر پر نہیں تھی۔

ھمارا گھر شہر سے قدرے دور ایک تقریباً بے آباد کالونی میں تھا۔ اور سکول کے بعد شدید تنہائی تھی۔ اس لیے مصروفیت ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھے دس سال کی عمر سے کتابوں کی لت لگ گئی۔

آھستہ آھستہ  اردو پڑھنے کی رفتا ر اتنی ھو گئی کہ کھڑے کھڑے  چند گھنٹوں میں  پوری کتاب چاٹ جاتا۔اسی سپیڈ ریڈنگ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ تھا کہ  میرے بھائی جو کتابیں میونسپل لائبریری سے لاتے ، ان سے پہلے میں کتاب چھپا کر پڑھ جاتا اور بھائیوں سے "اپنی عمر سے بڑی" کتابیں پڑھنے پر گالیا ں کھاتا۔جہاں اس سپیڈ ریڈنگ نے  مجھے ذھنی طور پر سہارا دیا، وہیں اس کا ایک نقصان بھی ھوا اور وہ یہ کہ کتاب تو پوری پڑھی جاتی لیکن کتاب پڑھنے کا لطف آھستہ آھستہ جاتا رھا۔ کتاب کے مین پوائنٹ تو یاد رھتے لیکن بیچ میں کیا گھوڑے دوڑ رھے تھے ، ان کی تعداد و خصوصیات آفٹر شیو کی طرح فضا میں تحلیل ھو جاتیں۔

یہ سب مطالعہ اردو کتب کا تھا۔

2005 میں لاھور  لبرٹی مارکیٹ میں واقع  گلیکسی بک سٹور میں یونہی پہلی دفعہ گُھسا تو انڈیا میں سستے کاغذ پر  چھپے انگریزی کتابوں کے پائیریٹڈ ایڈیشنزکی قیمتیں دیکھ کر حیران ھو گیا۔ عموماً لاھور میں کتب فروش کتابوں کی قیمت یہ دیکھ کر طے کرتے ھیں کہ کتاب کس زبان کی اور کتنی ضخیم  ھے۔ اسی لیے عموماً انگریزی ردّی کا بھاؤ بھی آسمان سے باتیں کرتا ھے۔ گلیکسی میں تقریباً تمام انگریزی کتب 20 روپے سے لے کر پچاس ساٹھ تک میں بک رھی تھیں۔ اسی لیے رال ٹپک پڑی اور تُکے سے  ایک سستی سی کتاب بنام "آخری مغل" تصنیف بہ ولیم ڈیلرمپل خرید لی۔  یہ کتاب بہادر شاہ ظفر اور 1857 کے غدر کے متعلق تھی۔

اس کتاب کے ختم کرنے کے بعد میری  اردو کتب بینی کی لت کی موت واقع ھو گئی۔

مجھ پر آشکار ھواکہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تاریخ کی کتابیں عموماکئی سال کی  ریسرچ کے بعد لکھی جاتی ھیں اور انگریزی مصنف اپنی کتاب میں ، اسی موضوع کی اردو زبان کی تاریخ کی طرح عموماً مختلف واقعات کو سنسرکرنے کی بجائے ان سے منسوب تمام حوالے دے کر سچ جھوٹ کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ھیں۔

اسی لیے میں تب سے انگریزی کتب پڑھ رھا ھوں۔ (ایک وجہ ویسے یہ بھی ھے کہ اردو میں تب سے  احمد بشیر کی دل تو بھٹکے گا کے بعد کوئی قابل ذکر کام نہیں دیکھا۔ شائد سب تخلیقی لوگوں کو میڈیا کھا گیا اور مزید یہ کہ اب سنگ میل کی کتب ھزاروں روپے میں بکتی ھیں ، جس کی اوقات نہیں ، اس لیے اُن کتب کو عموماً دکان میں ھی سپیڈ ریڈنگ کر کے پھڑُس  کر دیتا ہوں)۔

میرے بلاگ کا ایک مقصد پڑھی ھوئی انگریزی  کتابوں کے اچھوتے حصوں کو بلاگ کے ذریعے اردو قاری تک لے کر آنا ھے تاکہ پڑھیں اورسوچ کا الاؤ گرم کریں۔

3۔ علم دریاؤ
 پاکستان میں جس رفتار سے انٹرنیٹ مختلف حلقہ فکر کے لوگوں تک پھیل رھا ھے۔ اس کو دیکھتے ھوئے میرا خیال ھے کہ آنے والے کچھ سالوں میں اردو میں اب لکھا گیا آن لائن مواد کروڑوں عوام کے لیے کافی فائدہ مند ھوگا۔

اردو بلاگز میں آپ ھر طرح کے موضوعات  دیکھیں گے۔ مذھب، سیاسیات، مزاحیات، ذاتیات،بکواسیات۔۔ لیکن اگر نہیں دیکھیں گے تو علم معاشیات یا روپے پیسے  سے متعلق موضوعات نظر نہیں آئیں گے۔شائد اس کی وجہ یہ ھے کہ یا تو بلاگرز  کو ان علوم کی اہمیت کا احساس نہیں یا پھر ھمارے لوگ روپے پیسے سے متعلق علوم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے۔ (یہ اور بات ھے کہ روپے پیسے کو چاٹنے سے کراھت نہیں آتی)۔  یہ بھی اھم ھے کہ ھماری معاشیات کی کتابیں کافی گاڑھی اردو میں لکھی ھوتی ھیں یعنی کہ قانوں برائےافادہ مختمم  کی اصطلاح کو دیکھ کر ھی عوام کی اردو معاشی علم کی پیاس سڑ بُجھ جاتی ھے۔چونکہ میرا پیشہ اور پچھلے پندرہ سال کی پڑھائی بھی اسی سے متعلق ھے ،  اس لیے اس موضوع پر  آسان زبان میں لکھوں گا۔چنانچہ ان تین بنیادی مقاصد کو لے کر میں اردو بلاگنگ دنیا میں چھلانگ لگا رھا ھوں۔