مارچ 28, 2013

چھوٹا


2001 میں میری کمپنی نے ہمیں  ایک خفیہ مشن پرمیموریل کرسچن ہسپتال، سیالکوٹ  میں بھیجا۔ یہاں ہمیں تین چار ماہ تک  ہسپتال کے خرچے پر یہاں رھنا تھا۔ یہ میرا سیالکوٹ کا پہلا دورہ تھا اور عیسائی برادری کے ساتھ  زندگی کا پہلا ٹاکرا تھا۔


پہلے پہل ہمیں ہسپتال کے اندر واقع گیسٹ ہاوس میں ٹھیرایا گیا۔ ہسپتال کا گیسٹ ہاوس سو دو سو سال پرانا  بنا ھوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک چرچ تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک نرسز کے لیے ھوسٹل ۔ یہ  کافی سنسان جگہ تھی جو شام ہوتے ہی درختوں کی کثرت سے خوفناک بھی ھو جاتی تھی۔ یہاں پہلے بھیجے گئے لوگوں نے بتایا تھا کہ رات کو  چرچ کے آس پاس  چڑیلیں گھومتی ھیں۔ بعد میں معلوم ھوا کہ ساتھ ہی ایک نرسنگ ہاسٹل ھے ، جس میں رھنے والی نرسز رات کو یہاں واک کر رہی ھوتی ھیں۔لیکن خیر یہ کافی بعد میں پتہ لگا۔اس لیے انتظامیہ سے درخواست کی کہ ڈرپوک لوگ ھیں ، ہمیں ہسپتال سے باھر کینٹ میں کہیں کسی اچھے ہوٹل میں ٹہرا دو۔ (اصل بات یہ تھی کہ اگر گیسٹ ہاوس میں رھتے تو خانسامے کا پکا ہوا کھانا پڑتا۔ جو کہ ظاہر ھے عیسائی تھا اور پاکستانی تعلیمات کے مطابق ، اس وقت عیسائیوں کے ہاتھ کے پکے کھانے کھانے سے کراہت آتی تھی۔ اب کھا لیتا ہوں کہ تھوڑا بڑا ہو گیا ہوں )۔ انتطامیہ نے کافی بحث مباحثہ کیا ، ہم اپنی پر اڑے رھے۔ دبے لفظوں ان کو دو  کنوارے نوجوانوں کی موجودگی کی وجہ سے پورے اسپتال کی نرسوں کے اخلاق خراب ہونے کا بھی واسطہ دیا۔ آخر بیچ کی راہ یہ نکالی گئی کہ ہمیں مین گیٹ کے ساتھ نئے تعمیر شدہ وارڈ کی اوپر کی منزل پر دو کمروں میں ٹھیرایا جائے گا۔  اب مجھے لگتا ہے کہ ان کو ہماری خانسامے کے کھانے کے ساتھ خوشگوار تعلق کا بھی احساس ہو گیا تھا، اسی لیےساتھ یہ بھی لالچ دیا گیا کہ ہم شام کا کھانا باھر کسی بھی ہوٹل میں جا کر کھا سکتے ھیں۔ بہرحال ان شرائط پر ہم ہسپتال کے اندر ٹھیرنے پر تیار ہو گئے۔


وارڈ کے اوپر والی منزل پر ایک لمبا کاریڈور تھا جس کے دونوں اطراف کمرے تھے۔ یہ منزل ابھی وارڈ کے طور پر استعمال نہیں ہو رہی تھی اور بالکل خالی تھی۔ اسی میلوں لمبے کاریڈور کے آخر پر ہمیں دو کمروں میں رہنا تھا۔


 کام تقریباً دو بجے دوپہر ختم ہو جاتا تھا، اور اس کے بعد ایک بہت ہی لمبااور بور دن شروع ہو جاتا تھا۔ جس کی بوریت کو دور کرنے کو ہم سیالکوٹ شہر کا چکر لگانے چل پڑتے تھے۔ اس چکر کا اختتام اکثر کینٹ میں واقع کسی ہوٹل یا پھر ڈرموں والے چوک میں واقع اللہ مالک پلاؤ  کے کھانےپر ہوتا تھا۔ ایسے ہی ایک چکر کے اختتام  میں ہم ڈرموں والے چوک کے کونےپر واقع  تکہ شاپ پر پہنچے۔ ایک آدمی تکے لگا رھا تھا اور ایک  بارہ تیرہ سال کا لڑکا  گاہکوں کو ڈیل کر رھا تھا۔ جس وقت ہم پہنچے وہاں اور کوئی گاہک نہیں تھا۔


پاکستان میں ہوٹلوں پر عموماً چائلڈ لیبر یعنی دس بارہ سال کے بچے بیرے کا کام کرتے ھیں۔اس کی وجہ یہ ھے کہ  تنخواہ کم لیتے ھیں۔غریب گھروں سے ہوتے ھیں تو گھر بھی چار پیسے پہنچ ہی جاتے ھیں۔ان بچوں کو چھوٹا کہا جاتا ھے اور تمام گاہک ان کو "اوئے چھوٹے!" کہ کر بلاتے ھیں۔


خیر اس دن میں نے ببنچ پر بیٹھتے ہی ایک عجیب حرکت کی۔


میں نے چھوٹے کو آواز ماری کہ بھائی صاحب۔ آرڈر لے لیں۔!!۔


 چھوٹا  آیا اور حیران سا ہو کر میرے منہ کی طرف دیکھ کر یہ اندازہ لگانے لگا کہ میں مذاق تو نہیں کر رھا ۔ اس کے چہرے کے تاثر کو دیکھ کر مجھے جھٹکا لگا اور میں اپنی غیر اضطراری حرکت کو کوسنے لگا لیکن پھر میں نے اس بھائی صاحب  بلانے والے ڈرامے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ مجھے  محسوس ہوا کہ اگر چھوٹے کو میری حرکت مذاق لگی تو اس کو افسوس ہوگا شائد۔ اسی وجہ سے میں نے اپنے آپ پر سنجیدگی طاری کرلی۔اور اس کو اسی طرح ٹریٹ کیا جیسے وہ کوئی دس بارہ سال کا لڑکا نہیں بلکہ میرے برابر کا ہی کوئی جوان اور معزز آدمی ھے۔وہ جتنی دفعہ بھی میری ٹیبل پر آیا ، میں نے اس کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ایک معزز آدمی سمجھ کر اس کے ساتھ بات کی۔


جب میں کھانا کھا کر اٹھا اور پیسے دے کر دکان سے باھر نکلنے لگا تو چھوٹا باہر کھڑا تھا۔میں نے کہا یااللہ خیر۔اتنی عزت دی ھے،  کہیں ٹپ  ہی نہ مانگ لے ۔ (میری عادت ھے کہ میں ٹپ دینے سے پتہ نہیں کیوں کتراتا ہوں ۔ مجھے لگتا ھے کہ اگر میں نے زیادہ ٹپ دے دی تو مجھے اپنی ازلی کنجوسی کی وجہ سے افسوس ہوگا، اور اگر کم دی تو دوسرے آدمی کا دل ٹوٹ جائے گا۔) ۔


میں چھوٹے کو نظر انداز کر کے گزرنے لگا تو مجھے چھوٹے نے بھائی جان کہ کر آواز دی۔میں نے دل میں کہا کہ لے بھیا۔ اب پھنس گئے۔ ٹپ دینی پڑ جائے گی۔ اور دے لوگوں کو عزّت!۔۔


میں مڑا تو چھوٹے نے بہت ہی جذباتی انداز میں ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ  جھک کر اپنے دونوں ہاتھ اس طرح مصافحہ کے لیے بڑھا دیے جیسے کسی بہت معزز  بزرگ  سے ہاتھ ملانے لگا ھے۔۔۔ !!  میں نے ٹھٹک کر چھوٹے کے ہاتھوں کو دیکھا  اور ٹپ سے بچ جانے پر شکر ادا کرتے ہوئےاپنا ہاتھ مصافحہ کے لیے بڑھا دیا۔ ۔۔!!!!!


دنیا کا ھر آدمی چھوٹے کی طرح عزت کا بھوکا ھے۔اور دوسروں سے امید کرتا ھے کہ وہ اس کی خامیاں نظر انداز کر کےاس کو حقیر اور "چھوٹا" تصور نہیں کریں گے اور برابری و عزت دیں گے۔ جو آدمی بھی اُس کو ایسا ٹریٹ کرتا ھے، بندہ اس کے ہاتوں بک جاتا ھے۔اس کا مرید بن جاتا ھے اور پھر اس کا بت تراش کر پوجنے لگ جاتا ھے۔


میں اس دن کے بعد کبھی بھی چھوٹے کی دکان پر نہیں گیا۔ ٹِپ جو دینی پڑ جانی تھی اگلی دفعہ!


4 تبصرے:

  1. بہت خوبصورت پیغام۔
    جی ہاں ہر چھوٹے کی عزت نفس ہوتی ہے۔
    اللہ پاک آپ کو خوش رکھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھے زمانے کی بات کی آپ نے کاشف بھائی میرا تو بڑا برا تجربہ ہے آجکل
    جس سے شرافت سے بات کرو وہ الٹا آپکے سر پر آدھمکتا ہے اگر آپ بےہودگی سے بات کریں گے تو اگلا شرافت فکھائے گا
    اسی وجہ سے ہم اکثر جگہوں پر منہ کی کھاتے ہیں
    :)

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہمارے علاقے کا سب سے بدماش لڑکا محلے کے چائے کے ڈھابے کا چھوٹا ہی تھا ۔

    جواب دیںحذف کریں