17 اپریل، 2014

المیہ

ورکشاپ میں گاڑی دے کر دفتر آنے کے لیے میٹرو پر چڑھا۔
میرے روبرو سامنے کی سیٹ پر ایک خاتون کتاب پڑھ رہی تھیں۔  
عنوان تھا ۔۔
"اجنبیوں کے ساتھ گفتگو کس طرح شروع کی جائے؟"۔
ایک گھنٹے کے سفر کے  بعد ۔ ۔ ۔  
 ہم دونوں ایک دوسرے سے بات کیے بغیر آخری سٹیشن پر اُتر گئے۔

8 تبصرے:

  1. المیہ نہیں ایک حساب دان کی دور ایندیشی ھے

    جواب دیںحذف کریں
  2. آج کل ہر کوئی یہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، لیکن ایک دو باتوں کے بعد ہم خود جان چھڑوانا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں دھکیلنے میں فون، بلکہ سمارٹ فون کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت خوب
    مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے اس پیرا گراف کو کہاں پڑھا ۔۔۔ شاید کسی انگریزی رسالے میں یا شاید انگلش سے اردو ترجمہ کی ہوئی کی ہوئی کسی حکایات میں
    اگر آپ بتا سکیں کہ اس تحریر کا اصلی ماخذ کیا ہے تو میری الجھن دور ہو جائے گی

    جواب دیںحذف کریں
  4. بھی واہ : اسی کو تو کہتے ہیں" کم خرچ بالا نشیں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی انتہائی کم الفاظ میں ذائقےدار پوسٹ ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. واہ بھئی، بہت خوب۔ پڑھ کر مزا آیا

    جواب دیںحذف کریں