مئی 1, 2015

گوپی

سچ کہوں تو گوپی سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔
اور شائد کبھی ہوتا بھی نہیں، اگر وہ ہمارے ضرورت روم میٹ کے اشتہار کے جواب میں ایک اندھیری رات گنجو ناتھ کے ہمراہ ہمارے فلیٹ پر وارد نہ ہوا ہوتا۔
کرائے کے تین کمروں میں گیارہ طالب علموں اور ان کے تین چار مستقل مہمانوں کی موجودگی میں پہلے ہی بہت رش تھا۔
لیکن کیا کرتے۔ کرایہ ہر چھ مہینے سال بعد کسی نہ کسی بہانے بڑھ جاتا تھا۔  اور پھر یہ کہ ہر دوسرے دن فلیٹ اور کالج کی چار دیواری سے باہر کی زندگی کا علم حاصل کرنے کی خاطر نئی فلم کی سی ڈی بیس روپے روزانہ کے کرائے پر بھی آتی تھی۔  اسی لیے کونسل میں فیصلہ ہوا کہ بھیڑوں سے کھچا کھچ بھرے اس باڑے میں دو چار  لیلے اور گُھسا لیے جائیں۔ چنانچہ محلے کے تمام ہوٹلوں اور آس پاس کے کالجوں میں ضرورت روم میٹ کے اشتہار چسپاں کر دیے گئے۔
تین ہفتے بعد، اسی سلسلے میں گوپی پہلے امیدوار کے صورت آدھی رات کو ہمارے دروازے کے باہر بمع گنجو ناتھ جلوہ افروز تھا۔
 گہرا سانولا رنگ۔ کلین شیو۔ دیہاتی نین نقش۔ چار پانچ سال پرانا شلوار قمیض جس کا پھیکا رنگ اب بہت ہی پھیکا ھوتا جا رہا تھا۔ سرائیکی لہجے کی انتہائی نستعلیق اردو۔ نرم چہرے پر انتہائی سنجیدگی۔ جو صاحب دروازہ کھولنے گئے، وہ ان کو دروازے سے ہی اس بناء پر بھگانے لگے کہ اشتہار مزدوروں کے لیے نہیں سٹوڈنٹس کے لیے تھا۔ لیکن چونکہ اس رات سب کی جیبیں خالی  ہونے کی وجہ سے ہوم سنیما بند تھا، اس لیے کونسل نے فیصلہ کیا کہ امیدواران کا گروپ انٹرویو کرلیا جائے۔ انٹرویو میں واضع ہو گیا کہ مستقبل بعید میں بھی گوپی کی فلیٹ میں جگہ مشکل ہے۔ ان دنوں چونکہ کونسل مالی بحران کا شکار تھی، اسی لیے گوپی کو ہاں کر دی گئی۔ ہاں سنتے ہی گوپی نے ایک کونے میں مجذوب کی مانند گم سم بیٹھے گنجو ناتھ کو اشارے سے بتایا کہ تُو یہیں ٹھر، میں تیرا سامان لے کر آیا۔ یہ پینترا سب کو حیران کر گیا۔ یہی وہ پہلا موقع تھا جب گوپی فلیٹ والوں کی توجہ کا مرکز اور مذاق کا نشانہ بن گیا۔
تب سے ہی گنجو ناتھ سے ملاقات کرنے آتے گوپی سے سب کی آہستہ آہستہ دوستی سی ہوگئی۔
ایک دن بہت ایکسائٹمنٹ میں فرمانے لگا کہ آج کالج لائبریری میں ایک لڑکی سے بات کی ہے۔
ہم نے کہا۔ بڑا کارنامہ کیا، جو تاریخ میں تجھ سے پہلے کسی سے نہیں کیا۔ اور خاص طور پر اس فلیٹ پر رھنے والے خشکے شیر دل حضرات میں سے تو کسی نے بھی ہرگز نہیں کیا۔
کہنے لگا ۔' عجیب بات ھوئی۔ میں نے اس کو اکیلا بیٹھے دیکھ کر کلاس نوٹس مانگے۔ بولی کہ دوستی کرنی ہے تو سیدھا سیدھا بولو۔ یہ کلاس نوٹس کا گھٹیا بہانہ کیوں لگا رھے ہو۔ کچھ دیر کھلے منہ کے ساتھ  اس کا منہ تکتا رھا، پھر جی کڑا کر اپنے اندر اس کمرے سے دڑکی لگانے کی خواھش پر قابو پا کر جھجکتے  ہوئے کہا کہ چلو پھر دوستی ہی کر لو۔ بولی کہ سمجھو ہو گئی۔ پھر ہم اگلا ایک گھنٹہ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔
یہ لغو اور بے بنیاد بکواس کہانی سن کر سامعین میں سے آدھے حسد کے مارے اٹھ گئے اور باقی آدھوں نے اس پر پروفیشنل "چھوڑوو" ہونے کا الزام لگایا۔

دو ماہ بعد گنجو ناتھ نے ذکر کیا کہ زاہدِ خشک آج کل عشق کے تیل میں ڈوبا ہوا ہے۔ اپنے انتہائی غریب والد صاحب سے شادی کی بات کرنے پر مار کھاچکا ہے۔
کچھ عرصہ بعد گوپی نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود انہی خاتون سے نکاح کرلیا۔
اس کے بعد گوپی سے ملاقات تقریباً ختم ہوگئی۔
بس خبریں ملتی رہیں کہ اپنا گھر بسانے کی خاطر دونوں میاں بیوی نے ظالم سماج اور اپنی پڑھائی چھوڑ کر دوسروں کو ٹیوشنز پڑھانا شروع کردیا۔ یہ فارمولا اتنا کامیاب ہوا کہ کچھ عرصہ بعد اسی ٹیوشنز کی کمائی سے گاڑی بھی خرید لی۔

بہت سال بعد اگلی دفعہ ملاقات ہوئی تو گوپی کے تین بچے ہوچکے تھے اور دھندہ عروج پر تھا۔
میں اس کو دیکھ کر، اس کی باتیں سُن کر سوچنے لگا کہ یار۔ کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ھوتے ہیں۔ میں ابھی پڑھائی کے امتحانوں میں سے نہیں نکل پا رہا اور یہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے سارے امتحان اعلٰی نمبروں سے پاس کیے جا رہا ہے۔

اگلے ہفتے لاہور سے اپنے آبائی شہر کو جاتے ہوئے، آدھی رات کے بعد، گوپی اپنی بیوی اور تین بچوں پر مشتمل لوسٹوری اور گاڑی پر مشتمل جائداد سمیت، جل کر راکھ ہوگیا۔
یہ بات اب بے معنی ہے کہ پہلے سی این جی سلنڈر پھٹا یا پہلے گاڑی درخت سے ٹکرائی۔
صرف یہ طے ہے کہ گاڑی کے ڈھانچے اور چند جلے ہوئے انسانی ڈھانچوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔
ہاں، صرف ایک چمڑے کا بٹوہ،
جو کہ  گاڑی کی ڈرائیور سائیڈ کے پاس ہی پڑا ملا۔
چمڑے کا بٹوہ ۔ ۔ ۔  جس پر تھوڑی سی انسانی چمڑی چمٹی ہوئی تھی۔
اسی بٹوے میں موجود شناختی کاغذات کی مدد سے پولیس نے  گھر والوں کو ڈھونڈا ، تاکہ جلی ہوئی ھڈیوں سے بھری گٹھڑی  ان کے حوالے کی جا سکے۔
گنجو ناتھ کا کہنا ہے کہ شائد گوپی نے آخری لمحوں میں بٹوے کو جلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا ہو ۔تاکہ مرنے کے بعد اس کی شناخت ہو سکے۔ شناخت مرنے کے بعد بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ پیچھے زندہ رہ جانے والوں کو تسلی ہوجائے کہ مردہ انہی کا ہے۔

جیتے جاگتے لوگ، اور ان کی ہنستی بستی زندگی چند لمحوں میں محض ایک خبر بن گئے۔


موت تو آ ہی جایا کرتی ہے۔ لیکن زندہ جل کر راکھ ہو جانا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں، دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ شائد اس تاثر کی وجہ سے کہ جل کر مرنا سب سے اذیت ناک موت ہے۔ شائد تبھی انتہائی بے بس لوگ اپنے آپ کو نذر آتش کر کے اوروں کا غصہ اپنے وجود پر ٹھنڈا کرتے ہیں۔
سڑک پر ایک سو چالیس کی رفتار پر ایک ہات سے سٹیرنگ پکڑ کر گاڑی چلاتے ہوئے، شریک حیات کی باتیں اور پیچھے سے بچوں کےقہقہے سنتے سنتے، جب بھی گوپی کا خیال آتا ہے تو دوسرا ہات خودبخود اسٹیرنگ پر کھسک آتا ہے اور رفتار آہستہ ہو جاتی ہے۔ اپنے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔ اپنی سٹوری ختم ہونے سے خوف آتا ہے۔