نومبر 28, 2013

ملالہ: اصل کہانی (ثبوتوں کے ساتھ)

ستمبر دو ہزار بارہ میں، پاکستان کی وادئ سوات سے تعلق رکھنے والی ایک پندرہ سالہ طالبہ کے بارے میں رپورٹ ملی کہ اسے ایک طالبان ایکٹوسٹ نے سر میں گولی مار دی ہے۔

اس حملے سے پوری دنیا میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی، اور اس خبر کو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں وسیح پیمانے پر کوریج دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں اور پھر برطانوی ڈاکٹر وں نے ملالہ کے چہرے اور سر کی کئی سرجریاں کیں اور بلآخر اسے بچالیا۔

آج ملالہ برطانیہ میں رہ رہی ہے اور مسلسل پاکستان میں اور خصوصاً اُن علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم دہرا رہی ہے، جہاں سننے میں آیا ہے کہ انتہا پسند اور عسکری تنظیمیں لڑکیوں کے سکول تباہ کر رہی ہیں ۔

لیکن یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز داستان ہے جس کا تانا بانا مغربی میڈیا نے بنا ہے۔

اس سال اپریل میں ڈان اخبار نے واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لئے اپنے سب سے تجربہ کار نامہ نگاروں کا ایک گروپ پانچ ماہ کے لئے سوات بھیجا جن کی تحقیق و تفتیش سے انکشافات کا ایک دل دہلا دینے والا سلسلہ سامنے آیا جو ملالہ کے بارے میں گھڑے گئے مغربی افسانے سے پردہ اٹھاتے ہوئے اصل حقائق بمعہ ثبوت سامنے لاتا ہے۔

اس تحقیق کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

ملالہ سوات میں پیدا ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ پشتون ہی نہیں ہے۔ سوات کے ایک معزز ڈاکٹر، امتیاز علی خانزئی نے، جو سوات میں ایک پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک چلاتے ہیں، ہمارے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے پاس ایک ڈی این اے رپورٹ ہے جس کے مطابق ملالہ پشتون نہیں ہے۔

رپورٹ دکھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملالہ کا ڈی این اے اس وقت حاصل کیا تھا جب وہ ایک بچی تھی اور اپنے والدین کے ساتھ کان کے درد کی شکایت لے کر کلینک آئی تھی۔

"پچھلے سال اس گولی حملے کے بعد، مجھے یاد آیا کہ میرے پاس ایک بوتل ہے جس میں، میں نے ملالہ کے کان کا میل جمع کر رکھا تھا”، ڈاکٹر نے وضاحت دی۔ "اپنے مریضوں کے کانوں کے میل جمع کرنا میرا مشغلہ ہے"۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ڈی این اے کے مطابق ملالہ ایک سفید فام ہے اور ممکن ہے اس کا تعلق پولینڈ سے ہو۔ اس دریافت کے بعد ڈاکٹر نے ملالہ کے والد کو فون کیا اور اصرار کیا کہ وہ بتائیں کہ ملالہ کون ہے۔

"وہ گھبرا گئے اور ہکلانے لگے"، ڈاکٹر نے کہا۔ "انہوں نے درخواست کی کہ خدارا وہ اس راز سے پردہ نہ اٹھائیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اگر وہ مجھے پوری سچائی بتا دیں۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ ملالہ کا اصل نام ‘جین’ ہے اور وہ سنہ انیس سو ستانوے میں ہنگری میں پیدا ہوئی تھی۔ اسکو جنم دینے والے اصلی والدین عیسائی مشنری تھے جو دو ہزار دو میں سوات آئے اور واپسی کے وقت ملالہ کو اس کے منہ بولے والدین کو بطور تحفہ دے گئے جو خفیہ طور پر عیسائی ہو گئے تھے"۔

جب ہمارے نامہ نگاروں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ اب وہ ملالہ کی شناخت کیوں ظاہر کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں یقین تھا کہ ملالہ کو پاکستان مخالف عناصر نے سوات میں بھیجا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ یہ بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ ملالہ کو گولی مارنے والا شخص بھی پشتون نہیں تھا۔

"میرے پاس اس کے کان کا میل بھی موجود ہے"، ڈاکٹر نے دعویٰ کیا۔

حملہ آور کے کان کا میل حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر نے دریافت کیا کہ شاید اس کا تعلق اٹلی سے ہے۔ انہوں نے ہمارے نامہ نگاروں کو مائکروسکوپ میں اس شخص کے کان کا میل دیکھنے کی دعوت دی۔

"یہ جو چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے ٹکڑے آپ دیکھ رہے ہیں یہ پیزا کے ٹکڑے ہیں"، انہوں نے بتایا۔

ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ جنوری دو ہزار بارہ میں انہوں نے اپنی معلومات پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی، آئی ایس آئی، کے چند سینئر ارکان کو ای میل کر دیں۔

کچھ دنوں بعد ان کے کلینک پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب سعودی عرب میں تھے جہاں وہ شاہی خاندان کے چند ارکان کے کانوں کا میل جمع کر رہے تھے۔ پولیس نے انکے کلینک کے عملے کو ہراساں کیا جو یہ جاننا چاہتے تھے کہ کان کے میل کے نمونے کہاں رکھے گئے ہیں۔

اس سال جون میں، ڈاکٹر کے پاس ایک جوان آئی ایس آئی افسر آیا جس نے پولیس چھاپے کی معذرت چاہی اور بتایا کہ آئی ایس آئی ملالہ کی اصل شناخت سے بخوبی واقف ہے۔ ہمارے بہلانے پھسلانے پر ڈاکٹر نے بلآخر آئی ایس آئی افسر کا سیل فون نمبر دے دیا۔

تاہم، وہ افسر مستقل ہم سے بات کرنے سے انکار کرتا رہا، بلآخر اس شرط پر مانا کہ ہم اس کا حوالہ ‘ماسٹر ایکس’ کے نام سے دیں گے۔

ماسٹر ایکس ہمارے ایک نامہ نگار سے زیریں سوات میں لڑکیوں کے ایک خالی اسکول میں ملا۔ اپنا چہرہ چھپانے کے لئے افسر نے سپائیڈر مین کا ماسک پہن رکھا تھا۔

ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا، " یہ سب تو ایک دن سامنے آنا ہی تھا۔ میں اتنا خطرناک راز مزید اپنی حد تک چھپا کر نہیں رکھ سکتا۔ میں ایک سچا محب وطن ہوں"۔انہوں نے پھر مزید کہا: "ایک دن میرے والد نے مجھے بتایا تھا، ‘پیٹر! عظیم طاقت کے ساتھ، عظیم ذمہ داری بھی آتی ہے۔"

انکے انکشافات ہمیں ایک اور حیرت انگیز دریافت تک لے گئے (ثبوت کے ساتھ)۔

ملالہ پر حملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ڈرامہ تھا۔ افسر نے نامہ نگار کو بتایا کہ حملے کا پورا واقعہ پاکستانی اور امریکی ایجنسیوں کا منصوبہ تھا تاکہ شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی کی چڑھائی کی راہ ہموار ہو سکے۔ "یہ سب ایک ڈرامہ تھا"، انہوں نے بتایا۔ "یہ سب اس لئے کیا گیا تاکہ پاکستان آرمی کو شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کا بہانہ مل جائے۔"

جب یہ پوچھا گیا کہ افسر حملے کا لفظ کیوں استعمال کر رہا ہے جبکہ شمالی وزیرستان تو پاکستان ہی کا حصّہ ہے، تو انہوں نے جواب دیا، " شمالی وزیرستان ایک خود مختار اسلامی امارت ہے اور یہ صدیوں سے ایسی ہی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں حقیقت کو مسخ کیا گیا ہے، اور بچوں کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصّہ ہے۔ اس علاقے میں تیل، سونا، تانبا، چاندی، کانسی، کوئلہ، ہیرے، معدنی گیس اور ڈائناسار کی باقیات کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اور یہ امریکی اسی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔"

ہمارے نامہ نگار نے پوچھا کیا اپنے دعوے کو ثابت کرنے کا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے۔؟؟

افسر نے کچھ تصویریں نکالیں اور نامہ نگار کو دکھائیں۔ تصویر میں کچھ ہڈیاں دکھائی گئیں تھیں۔ “ڈائناسار کی ہڈیاں”، اس نے وضاحت کی۔اس نے مزید کہا: "انہیں شمالی وزیرستان سے طالبان کے آثار قدیمہ ڈویژن نے نکالا تھا۔ اس کے بعد طالبان کے ارضیات ڈویژن نے ان کا مطالعہ کیا، ان میں تیل، سونا، تانبا، چاندی، کانسی، کوئلہ، ہیرے اور گیس کے نشانات پائے گئے۔”

اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ملالہ پر حملے کا ڈرامہ امریکی اور پاکستانی ایجنسیوں نے رچایا تھا؟

کاغذ کا ایک ٹکڑا نکال کر ڈاکٹر نے کہا، "یہ ہے ثبوت، اسے طالبان کے کوانٹم فزکس ڈویژن نے ڈیکوڈ کیا تھا"۔

اس کاغذ پر کسی “لب فش” اور “آئل گل” کے درمیان ٹویٹر پر ٹویٹس کے مختصر تبادلے کے سکرین شاٹس تھے۔
افسر کا کہنا تھا کہ ٹویٹر پر ‘لب فش’ درحقیقت قطر میں موجود ایک سی آئی اے آپریٹو تھا جبکہ ‘آئل گل’ لاہور میں موجود آئی ایس آئی کا کارندہ تھا۔ اس تبادلے کا سراغ اور اس کی ڈیکوڈنگ ایک ‘سونامی مامی’ نے کی، جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں ثوابی سے تعلق رکھتی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے انجنیئر ہیں۔

ہم یہاں افسر کی طرف سے مہیا کیا گیا، ‘لب فش’ اور ‘آئل خان’ کے درمیان ٹویٹر تبادلہ شائع کر رہے ہیں۔

@لب فش یو، @آئل گل زندگی کیسی چل رہی ہے؟
@آئل گل مزے میں یار
@لب فش @آئل گل قطر آنے کے کوئی امکانات ہیں؟
@آئل گل @لب فش جلد ہی، میں ذرا اپنے او لیول امتحانات سے فارغ ہو جاؤں، بہت عاجز آگیا ہوں
@لب فش @آئل گل ہا ہا، ہاں یہ تو ہے

افسر نے بتایا اس بیچ جب سونامی مامی کو احساس ہوا کہ کیا چل رہا ہے تو وہ بھی کود پڑیں۔

@سونامی_مامی ایجنٹس! میں جانتی ہوں تم دونوں کیا کرتے ہو۔ اسلام مخالف، پاکستان مخالف کمینو!
@آئل گل دوست تم کون ہو اور ہمیں کیوں بور کر رہے ہو؟
@سونامی_مومی بکواس بند کرو۔ جھوٹے لبرل فاشسٹ ایجنٹو، عمران خان از دی بیسٹ، تم کمینے این اے 250 پر ایک بلین نقلی فاشسٹ ووٹوں سے دھاندلی کرتے ہو، اینٹی اسلام اینٹی پاکستان ، انشااللہ نیا باکستان! تبدیلی!

افسر نے بتایا کہ اس نے ممتاز پاکستانی زبان دان اور جنگ عظیم دوم کے کوڈ بریکر، مستنصر حسین تارڑ کی خدمات ان مشکوک ٹویٹر تبادلے کو ڈیکوڈ کرنے کے لئے حاصل کیں، اور تب اسے پتا چلا کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی ملالہ پر حملے کا ڈرامہ تیار کر رہے ہیں۔
افسر نے ہمارے نامہ نگار کواس کتاب کا مسودہ بھی دیا جس میں سونامی مامی نے اس حملے کے حوالے سے ڈاکٹر، افسر اور مستنصر حسین تارڑ کے مہیا کردہ ثبوت اکھٹا کیے ہیں (ثبوتوں کے ساتھ)۔

اس کتاب کا عنوان ہوگا “ایک نقلی لبرل پر ایک نقلی لبرل کے ذریعہ نقلی حملہ، اوکمینو!"

ذیل میں اس کتاب میں کیے گئے دعووں کا خلاصہ دیا گیا ہے:

یکم اکتوبر، انیس سو ستانوے: ملالہ بڈاپسٹ میں اپنے ہنگیرین والدین کے گھر پیدا ہوئی، اور اس کا نام جین ہے۔
چار اکتوبر سنہ دو ہزار دو: اس کے والدین سی آئی اے میں بھرتی ہوۓ، جہاں انہیں عیسائی تبلیغی کی مختصر ٹریننگ، ہپناٹزم اور کراٹے سکھائے گئے۔

سات اکتوبر دو ہزار تین: وہ این جی او ورکرز کی حیثیت سے پاکستان پہنچ کر سوات کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے کم درجے کے آئی ایس آئی ایجنٹ سے رابطہ کیا اور اس کی پوری فیملی کو عیسائی بنایا، اور پھر جین کو ان کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے اس بچی کا نام ملالہ رکھا جو دل سے عیسائی تھی۔

تیس اکتوبر دو ہزار سات: ملالہ نے ایک بلاگ لکھنا شروع کیا جس میں اس نے عسکریت پسندوں کو ہتھیار پھینکنے اور بائبل اٹھا لینے کو کہا۔

اکیس اکتوبر دو ہزار گیارہ: عسکریت پسندوں نے اسے اپنے تبلیغی بلاگ بند کرنے اور اس کی بجاۓ اپنا ہوم ورک کرنے کی درخواست کی۔

یکم اکتوبر، دو ہزاربارہ: سی آئی اے نے پشتو بولنے والے ایک اٹالین۔امریکی (رابرٹ) کو بھرتی کیا جو نیویارک میں رہتا تھا، پھر اسے بندوق چلانے اور اداکاری کا ایک مختصر کورس کرایا۔

سات اکتوبر دو ہزار بارہ: سی آئی اے نے آئی ایس آئی کو ملالہ پر جھوٹے حملے کے منصوبے سے آگاہ کیا، آئی ایس آئی بھی اس منصوبے سے متفق ہو گئی، اور اس حوالے سے ملالہ اور اس کے والدین کو بریفنگ دی۔

گیارہ اکتوبر، دو ہزار بارہ: اٹالین۔امریکی، ایک ازبک ہومیو پیتھ ڈاکٹر کے روپ میں سوات پنہچا۔

بارہ اکتوبر دو ہزار بارہ: رابرٹ کو ایک گن دی گئی جس میں خالی گولیاں بھری تھیں۔ اس نے ملالہ کی اسکول وین روک کر ملالہ پر فائر کیے۔ اس نے گولی لگنے کی نقل کی اور اپنے ہاتھ میں چھپائی ہوئی مچلز ٹوماٹو کیچپ کے چھوٹے سے پیکٹ کو کھول کر کیچپ اپنے پورے چہرے پر مل لیا۔ ایک نقلی ایمبولینس اچانک جائے واردات پر پہنچی اور ملالہ کو لے گئی۔ دنیا کو یہ بتایا گیا کہ اسے ایک طالبان نے چہرے اور سر میں گولی ماری ہے۔

میڈیا نے جو کہانی بتائی اس کے مطابق ملالہ کی سہیلیوں کا کہنا تھا کہ گن بردار نے پہلے ملالہ کے بارے میں پوچھا اور پھر اسے گولی مار دی۔لیکن افسر نے ہمارے ساتھ ملالہ کی ایک سہیلی کی گواہی شیئر کی جسے میڈیا کے وسیع مفاد میں دبا دیا گیا تھا۔
اس گواہی کے مطابق، ایک شخص نے وین روکی اور پشتو میں چلایا، “جین کون ہے… میرا مطلب جینٹ … نہیں، البرٹا جوہان لوکس؟"
لڑکیوں نے حیران ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اور ڈرائیور وین دوبارہ چلانے ہی والا تھا کہ اس شخص نے گن نکال لی اور چلانا شروع کر دیا ‘انو مومنتو، انو مومنتو…’
اور پھر ایک لڑکی سے پوچھا: “تم میری طرف دیکھ رہی ہو؟” جس پر ملالہ نے اپنا اسکول بیگ زمین پر پھینکا اور چلائی (اٹالین میں)،"نہیں بیوقوف، وہ نہیں بلکہ میں تمہاری طرف دیکھ رہی ہوں۔ ملالہ، ملالہ، یاد آیا؟ احمق!"
اوہ! کہہ کر اس نے خالی گولیاں چلا دیں۔

میڈیا پر جو لڑکی ہسپتال میں دکھائی گئی تھی وہ ملالہ نہیں تھی۔ افسر نے ہمیں یہ ثابت کرنے کے لئے کچھ اور تصویریں دکھائیں۔ اس نے اپنے آئی فون پر ہمیں ایک ویڈیو دکھائی جو اس نے حملے کے کئی گھنٹوں بعد بنائی تھی۔ اس میں ملالہ مزے سے دریاۓ سوات کے نزدیک ایک پہاڑی پر بنجی جمپنگ کر رہی تھی۔
اس کے بعد افسر نے ہمیں بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹر کے پاس اس لڑکی کے کان کے میل کے نمونے موجود ہیں۔ جب ہم نے دوبارہ ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور پوچھا ان نمونوں سے کیا ثابت ہوا۔  تو انہوں نے بتایا کہ ان سے حاصل ہونے والے ڈی این اے سے یہ پتا چلا کہ وہ کوئی لڑکی تھی ہی نہیں، وہ تو ایک تکیہ تھا!
ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ چپکے سے آپریشن روم میں ایک ڈاکیے بن کر گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور جب وہ لڑکی کے کان سے میل نکال رہے تھے اسی دوران انہوں نے اپنے نوکیا فون سے اس کی تصویر بھی بنالی تھی۔

"میں واپس آیا اور جب تصویر بڑی کر کے دیکھی تو سکتے میں آگیا"۔ انہوں نے ہمیں تصویر کا پرنٹ آؤٹ بھی دیا۔

ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی اور بین الاقوامی کمیونٹی کے پاس اب مناسب ثبوت موجود ہیں جن کے ذریعہ ملالہ کی کہانی پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے اور اقوام متحدہ سے التماس ہے کہ اس معاملے کی بھرپور تحقیقات کرائی جائیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت (لِنک) و روزنامہ ڈان انگلش (لِنک)  


پسِ نوشت
کسی نامعلوم وجہ کی بناء پر عوام یہ اخذ کر رہی ہے کہ یہ سنجیدہ تحریر ہے۔ جبکہ ایسا نہیں۔ یہ ایک طنزیہ پیروڈی ہے۔ ندیم فاروق پراچہ ایک عرصے سے انگریزی زبان میں طنز لکھ رہا ہے۔ لیکن چونکہ اردو میڈیا میں شائع نہیں ہوتا تو عوام الناس کو علم نہیں۔ ندیم فاروق پراچہ کا یہ کالم مشہور ہی اس وجہ سے ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ عقلمند عوام نے اس کو ملالہ کے بارے سچی باتیں سمجھ کر چسکے لے لے کر پڑھا ہے۔ روزنامہ جسارت جیسے مشہور اخبار نے بھی اس کو انکشافات سے بھری خبر کے طور پر شائع کیا  ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا اردو میڈیا کتنا ذمہ دار ہے۔
کہانی کا سبق: اگر کوئی معتبر شخصیت یا ادارہ ایک سٹیٹمنٹ دے رہا ہو تو ضروری نہیں کہ اس کے آگے پیچھے پر غور کیے بغیر اس پر بعینہ یقین کر لیا جائے۔
ویسے اگر اس کو پڑھتے ہوئے ہنس ہنس کر آپ کے پیٹ میں بل نہیں پڑے تو آپ کو اداسی ختم کرنے والے کیپسولوں کی ضرورت ہے۔


18 تبصرے:

  1. ڈسکلیمر کا ترجمہ بھی کرنا چاہیے تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یارا جی ڈان کی بات مت کریں۔ آپ نے جو پہلے لکھے وہ ہمیں ذیادہ اچھے لگے۔ کسی میڈیا گروپ پر ہمارا اعتبار بالکل نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. Ye tu Dawn News kee aik Mazahia tehreer theee aap bhee mamooo ban gay

    جواب دیںحذف کریں
  4. جسارت کے ذمہ داران سے گذارش کی تھی کہ اس بات کی پھبتی بننے سے پہلے اس "خبر" کو ہٹا لیں لیکن غالبا اس پر کوئ توجہ نہ دی گئی۔

    اس کی وجہ ایڈیٹوریل پالیسی کی کمزوری ہے، طنز و مزاح سے بے بہرہ ہونا ہے یا بقول پطرس خون کی خرابی ہے، یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ اس طرح کے غیر زمہ دارانہ طرز عمل سے مذہبی عناصر کی خوب درگت بنتی ہے۔

    خیر اپنی جھینپ مٹانے کے لئے ہم اتنا تو کہ سکتے ہیں کہ .انین. کی کہانیوں کے ساتھ بھی ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے، چلو جسارت نے کردیا تو کونسی قیامت آگئ۔

    http://www.thedailybeast.com/articles/2012/09/29/fooled-by-the-onion-8-most-embarrassing-fails.html

    جواب دیںحذف کریں
  5. از احمر

    جناب آپ کمال کے طنز نگار ہیں

    اگر ہفتہ میں ایک ایسا ہی مضمون لکھ دیا کریں تو ہماری کلفتیں کچھ کم ہو جاییں

    بہت شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  6. پہلے یہ کہانی شائع ہوئی کہ امت اخبار والوں نے اپنا انویسٹیگیٹو گروپ بھیجا اور وہ یہ رپورٹ لے کر آگئے۔ اب امت پر کسی نے اعتبار نہیں کیا تو اخبار کا نام بدل کر پھر جعلی کہانی کے ساتھ آگئے۔ آپ کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ یہ کہانی ایک بندے نے چھاپی تھی پاکستانیوں کو مینٹلی چیک کرنے کے لیے کہ وہ کتنے لو لیول مینٹیلٹی کے لوگ ہیں، کہ کسی بھی جھوٹی کہانی پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ اُس نے یہی ساری بات اپنی طرف سے بنا کر شائع کی تھی۔ اور اب اس کو ڈان اخبار کا ریسرچ بنا کر چھاپ رہے ہیں۔

    کچھ تو شرم کرو۔ ملالہ کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ تین چار سال کی تھی اور ہمارے محلے میں رہتی تھی۔ پتہ نہیں یہ کتنے گھٹیا قسم کے لوگ ہیں جو ایسی فضول کہانیاں لے کر آجاتے ہیں۔ جبکہ جس نے یہ کہانی لکھی تھی اس نے صاف بتا دیا تھا کہ میں تو پاکستانیوں کی ذھنیت چیک کر رہا ہوں!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. یہ آرٹیکل تو ندیم فاروق پراچہ نے دو مہینے پہلے لکھا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. او خدایا ۔ ثبوت کہاں ہے؟؟؟؟۔ عنوان میں "ثبوت" لکھنے سے ثابت نہیں ہو جاتا!!۔
    کانوں کا میل جمع کرنے کا مشغلہ؟ اِس ڈاکٹر کو ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ ۔ ۔

    تم ایڈیٹ لوگ، بلڈی طالبان کو سپورٹ کرنے کے لیے اور کتنی جعلی کہانیاں بناؤ گے؟؟؟

    طالبان کا کوانٹم فزکس ونگ۔ طالبان کا آثار قدیمہ ڈویژن۔۔ ہاہاہاہا۔ ان سے بہتر تھا کہ اے کے 47 ڈویژن یا خود کش حملہ ڈویژن کے نام رکھتے۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. اچھا مذاق ہے، کچھ بھائی اس مضمون کو سنجیدگی سے پڑھ رہے ہیں۔ ۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. I had read the original version of Nadeem F. Paracha. To my knowledge, I have not read any other Pakistani writers' hilarious writing better than Nadeem's. But his this write is more sarcastic than humerous. Not all can find the pins and needles in this write up (as you have said "Jasarat" took it seriously as if it had happened this way lol).

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. دیم ف پراچہ اچھا طنزیہ لکھنے والا ہے اور ذہنی بیماروں اور نفسیاتی مریضوں کی نفسیات کافی اچھی طرح سمجتا ہے . جسارت نے اس کا طنزیہ مضون سچ کے طور پر اس لئے چھاپہ کیوں کہ ایک ذہنی مفلوج اس مضمون کو پڑھنے کے بعد سچ سمجھے گا کیوں کہ حقیقت اور سچ جیسی چیزوں سے اس کا واسطہ ہی نہیں

      حذف کریں
  11. In my opinion, people criticise for two reasons:

    a) They care and want improvements because they have a sense of belonging and ownership.
    b) They don't care and try to create more chaos because they don't have any sense of belonging.

    I don't know if I can easily judge a person and put the person in one of the two categories.

    جواب دیںحذف کریں
  12. اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  13. Read online Urdu Digests,Urdu Books,Novels,Magazines,Safarnama,Islamic Books,http://bookspoint.net/

    جواب دیںحذف کریں
  14. For Read & Downloading Urdu Sex Books,Sexy Kahanyan,Complete Sexy Pdf Books,Glamrous Glamorous Magazine,https://bookspoint.net/

    جواب دیںحذف کریں