11 اپریل، 2013

کچھ اکثریت کے حقوق کے بارے


آپ استنبول کو لے لیں۔


یہ 1453 تک عیسائیوں کا گڑھ تھا۔ لیکن 1453 میں ترکوں کے قبضے میں جانے کے بعد اس شہر کی اہمیت اور بھی دو چند ھو گئی ۔ اگلے دو سو سال عثمانی سلطنت  ایشیا اور یورپ کی سب سے مضبوط طاقت رہی، سو استنبول  پورے یورپ  و ایشیا کی سب سے بڑی تجارتی و فوجی  بندرگاہ بن گیا۔
یہ اس زمانے میں یورپ کا سب سے امیر اور گنجان آباد شہر تھا۔ یہاں کی گلیوں میں آپ بہتر مختلف زبانیں سُن سکتے تھے۔ قبطی مبلغوں سے لے کر یہودی شیشہ گر، ایرانی ریشم کے تاجروں سے  لے کر برف پر ھزاروں میل چل کر پہنچنے والے سکینڈے نیوین  کرائے کے فوجیوں تک بھانت بھانت کے لوگ ملتے تھے۔ یہاں آرامک بولنے والے شامیوں ، لاطینی بولنے والے افریقیوں ، آرمینیا غرض ھر علاقے ھر زبان  کے لوگوں کو روزگار مل جاتا تھا۔ یہ سب لوگ عثمانی سلطنت کے متاثر کن  پھیلاؤ میں کسی نہ کسی صورت حصہ دار تھے۔

ترک سلطنت کے اعلٰی عہدے داروں کی اکثریت نسلی طور پر ترک نہیں تھی، بلکہ یہ سب سابقہ یہودی یا عیسائی (نومسلم) تھے۔

 جس زمانے میں یورپ میں لوگوں کو کافر اور مرتد قرار دے کر زندہ جلایا جارہا تھا، اس وقت روئے زمیں پر ترکی وہ  واحد جگہ تھی جہاں کوئی بھی کسی خوف یا گزند کے بغیر کسی بھی دین یا عقیدے  پر چل سکتا تھا۔ اور یہ سب صرف اس لیے تھا کہ حکمرانوں نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ مذہبی رواداری اور نسلی عدم تعصب کے ساتھ ہی ترقی کے زینے چڑھے جا سکتے ھیں۔ اسی لیے انیسویں صدی میں جیسے ہی  باہمی برداشت کا کلچر ترک قوم پرستی کے ہاتھوں بلڈوز ھو ا، عثمانی سلطنت کا شیرازہ بھی بکھر گیا۔ 
  
انیسویں صدی کے اختتام پر اس شہر کی آدھی آبادی عیسائی تھی۔
عثمانی سلطنت کے زوال، ترکوں کی 1922 میں ترک یونان جنگ میں فتح یا یونان سے نکالے گئے ترکوں کے بدلے اناطولیہ سے یونانیوں کی بے دخلی – غرض کوئی بھی واقعہ استنبول کی آبادی کے اس نسلی و مذھبی تنوع پر اثر انداز نہیں ھوا – ذرا غور کریں کہ جب 1923 میں عثمانی ترکوں کے اتحادیوں  کے ساتھ معاہدہ کے نتیجے میں سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا،  تب  بھی ترکوں نے استنبول میں رھنے والے 400،000 یونانیوں کو شہر چھوڑ کر نہ جانے کے عوض ھر قسم کی جانی اور مالی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی تھی۔

لیکن یہ سب 1955 میں بدل گیا۔جب استنبول میں بدترین نسلی فسادات ھوئے۔
ایک ہی رات میں خاموش تماشائی بنی پولیس کے سامنے، ھزاروں بلوائیوں نے یونانی اکثریتی آبادی  والے محلّوں پر دھاوا بول دیا۔ یونانیوں کی دکانوں کو توڑا پھوڑا گیا، قبرستانوں کی بے حرمتی اور مذہبی شخصیات کے مزاروں کو تباہ کر دیا گیا۔ 73 چرچ   (جی ہاں، تہتر) ، 23 سکول اور کئی خانقاہیں جلا  کر خاک کر دی گئیں۔ حکومت نے بعد میں کہا کہ یہ چند جاہل لوگوں کا کام تھا۔ لیکن   اقلیتوں کے خیال میں یہ ایک منظم حملہ تھا، اسی لیے آہستہ آہستہ ہجرت شروع ھو گئی۔ 

رویوں کے کٹرپن اور عدم برداشت نے استنبول کا یہ حال کیا کہ وہی شہر جو بہت سی مختلف اقوام و نسل کے لوگوں کا مرکز تھا، اب  ثقافتی تنوع اور معاشی لحاظ سے آہستہ آہستہ بنجر ھو رھا ھے۔ کہ شہر کے یہودی اسرائیل کو ، یونانی عیسائی ایتھز کو اور آرمینین آرمینیا اور امریکہ کی طرف ہجرت کرتے جارھے ھیں۔

شہر میں ترک نسل لوگوں کا تناسب اب 99 فیصد تک پہنچ گیا ھے۔ آج استنبول میں یونانیوں کی تعداد مشکل سے دو تین ھزار ھوگی جو یا تو  اپنے نام اسلامائز کر کے گزارا کر رھے ھیں ( جیسے فیدوں  نام کو فریدون ) یا پھر بوڑھے بیمار لوگ ھیں کہ جوانوں کو اس بات کا عرصہ پہلے ہی یقین ھو گیا کہ اب ان کا اس ملک میں مستقبل تابناک نہیں۔ مذہبی عبادتگاہیں کو گاھے بگاہے دھمکی آمیز خطوط  ملتے رھتے ھیں  جن میں ان کو ترکی چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ھے۔ 

3 تبصرے: